عن عائشة ام المؤمنین حیث قالت: و اختلفوا فی میراثه فما وجدوا عند احد من ذالک علماء فقال ابوبکر سمعت رسول الله یقول (انا معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناه صدقة).[1] ترجمہ: عائشہ ام المؤمنین نے روایت کی ہے .... اور انہوں نے (سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ابوبکر نے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی میراث میں اختلاف کیا پس ابوبکر نے کہا: میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ فرمارہے تهے: ہم انبیاء ارث نہیں چهوڑا کرتے اور جو کچھ ہم چهوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے. قال ابن ابی الحدید المشھور انه لم یرو حدیث انتفاء الارث االا ابوبکر وحده ترجمہ: ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ مورخین اور محدثین کے درمیان مشہور یہی ہے کہ ارث کی نفی کے بارے میں مذکورہ روایت ابوبکر کے سوا کسی نے بهی نقل نہیں کی ہے.[2] - [3] اور ابن ابی الحدید نے تحریر کیا ہے: ان اکثر الروایات انہ لم یرو هذا الخبر الا ابوبکر وحده و ذکر ذالک اعظم المحدثین حتی ان الفقهاء فی اصول الفقه اطبقو علی ذالک فی احتجاجاتهم فی الخبر بروایة الصحابی الواحد و قال شیخنا ابوعلی لایقبل فی روایة الا روایة اثنین کالشهادة فخالفه المتکلمون و الفقهاء کلهم و احتجوا بقبول الصحابة بروایة ابی بکر وحده (نحن معاشرالانبیاء لا نورث) و مع هذا وضعوا احادیث اسندوا فیها الی غیر ابی بکر انه روی ذالک عن الرسول (ص)![4] ترجمہ: اکثر روایات میں تاکید ہوئی ہے کہ یہ خبر – اکیلے- ابوبکر کے سوا کسی نے بهی نقل نہیں کی ہے اور اکثر محدثین – حتی فقہاء – نے اس روایت کو ان روایات میں شمار کیا ہے جو صرف ایک صحابی سے نقل ہوئی ہیں اور ہمارے شیخ (استاد) ابوعلی نے کہا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہے مگر یہ کہ وہ کم از کم دو صحابیوں سے نقل ہوئی ہو جس طرح کہ شہادت اور گواہی بهی صرف اسی صورت میں قابل قبول ہے جب گواہ دو مرد (یا دو عورتیں اور ایک مرد) ہوں چنانچہ تمام علمائے عقائد (متکلمین) اور فقہاء نے اپنے استدلالات میں اس کو مسترد کیا ہے. اورانہوں نے (نحن معاشرالانبیاء لا نورث) کو مقبولیت کا درجہ دینے کے لئے کہا ہے کہ چونکہ اس روایت کو صحابہ نے قبول کیا ہے لہذا ہم بهی اسے قبول کرتے ہیں! (اگرچہ قاعدے کے خلاف ہے) اور اس کے باوجود انہوں نے بعض دیگر احادیث وضع کی ہیں جو ابوبکر کے سوا دوسرے صحابہ سے منسوب کی گئی ہیں اور ان احادیث میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ حدیث رسول اللہ (ص) سے نقل ہوئی ہے!۔[5] ان علیا قال لابی بکر عند ما ذکر ابو بکر حدیث انتفاء ارت النبی ( و ورث سلیمان داؤود[6]) و قال (یرثتی و یرث من آل یعقوب[7]) فقال ابوبکر: هو هکذا و انت والله تعلم ما اعلم، فقال علی ع):هذا کتاب الله ینطق، فسکتوا و انصرفوا. ترجمہ: جب ابوبکر نے ارث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نفی والی حدیث کا حوالہ دیا تو علی علیہ السلام نے کہا: اور سلیمان داؤد کا وارث ہؤا اور زکریا نے کہا (خداوندا مجھے ایسا ولی عنایت عطا فرما جو) میرا اور آل یعقوب کاوارث بنے " اور ابوبکر نے کہا ایسا ہی ہے اور آپ جانتے ہیں جو میں جانتا ہوں. پس علی علیہ السلام نے کہا: یہ کتاب خدا ہے جو بول رہی ہے. پس سب خاموش ہوئے اور مجلس برخاست ہوئی.[8] بسط الخصومة علنيا في سقيفة ابى بكر ترجمہ: عبدالعزیز الجوهری اپنی کتاب میں لکهتے ہیں کہ سقیفہ ابی بکر میں خصومت اور عداوت اعلانیہ طور پر پهیل گئی.[9] 1. ان فاطمة بنت محمد دخلت على ابى بكر وهو في حشد من المهاجرين والانصار . ثم قالت : انا فاطمة بنت محمد اقول عودا على بدء : لَقَدْ جَاءكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ[10] ، فان تعزوه تجدوه ابى دون آبائكم ، واخ ابن عمى دون رجالكم . . ثم انتم الان تزعمون ان لا ارث لنا ، أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ تَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ؟[11] يابن ابى قحافة اترث اباك ولا ارث ابى ؟ ! ! لقد جئت شيئا فريا[12] ، فدونكها مخطومة تلقاك يوم حشرك ، فنعم الحكم الله ، والزعيم محمد ، والموعد القيامة وعند الساعة يخسر المبطلون.[13] – [14] ترجمہ: فاطمہ بنت رسول الله صلی الله علیہ و آلہ و سلم ابوبکر پر وارد ہوئیں جب کہ مہاجرین اور انصار کی جمعیت حاضر تهی، اور فرمایا: میں فاطمہ بنت محمد (ص) ہوں . ابتدا میں دہرانا چاہتی ہوں کہ: یقینا ایک رسول تم ہی میں سے تمہاری طرف آیا جس پر تمہاری تکالیف بہت گران گذرتی ہیں اور تمہاری ہدایت پر اصرار کرنے والا ہے اور مؤمنین پر رؤف اور مہربان ہے!" اگر تم توجہ کرو تو تم آپ (ص) کو میرا باپ پاؤگے جبکہ وہ تمہارا باپ نہیں ہے اور آپ (ص) کو میرے چچا زاد (علی (ع)) کا بھائی پاؤگے جبکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے. پهر اب تم گمان کرتے ہو کہ ہمارے لئے ارث نہیں ہے؟ کیا تم دوبارہ جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟ اور کون ہے جو یقین والوں کے لئے خدا سے بہتر حکم کرتا ہے؟. اے ابی قحافہ کے بیٹے! تم تو اپنے باپ کے وارث ہوسکتے ہو، میں رسول اللہ کی بیٹی اپنے باپ کی وارث نہیں ہوسکتی؟ تم نے نہایت عجیب اور برا عمل انجام دیا ہے. پس خدا کا حکم اور اس کافیصلہ بہترین ہے اور زعیم میرے والد محمد (ص) ہیں اور ہمارا میعادگاہ قیامت ہے اور اس وقت باطل والے نقصان اٹهائیں گے. ان فاطمة قالت : افعلى عمد تركتم كتاب الله ، ونبذتموه وراء ظهوركم ، اذ يقول الله تبارك وتعالى (وَ وَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ[15]) وقال الله عزوجل فيما قص من خبر يحيى بن زكريا فَهَبْ لِي مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا * يَرِثُنِي وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ[16] وقال عزوجل (وَأُوْلُواْ الأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللّهِ[17]) وقال (يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ[18]) وقال (إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ[19]) وزعمتم ان لا حظوة ولا ارث لى من ابى ، ولا رحم بيننا ، افخصكم الله بآية اخرج منها نبيه ، ام تقولون اهل ملتين لا يتوارثون ، او لست انا وابى من اهل ملة واحدة ، ام لعلكم اعلم بخصوص القرآن وعمومه من النبى(ص) (افحكم الجاهلية تبغون)[20] ترجمہ: حضرت فاطمہ (س) نے فرمایا: کیا تم نے جان کر کتاب اللہ کو ترک کیا اور اس کو اپنے پیچهے پهینک دیا؟ جب کہ الله تعالی ارشاد فرماتا ہے: (اور سلیمان داؤد کا وارث ہؤا) . اور الله تعالی یحیی بن زکریا کا قصہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: (پس مجهے ایسا فرزند عطا کردے جو میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو") اور خداوند عز وجل نے فرمایا"خدا کے مقرر کئے ہوئے احکام میں قرابتدار اور رشتہ دار ایک دوسرے کے لئے (دوسروں سے) زیادہ ترجیح رکهتے ہیں") اور فرمایا: ("خداوند تعالی فرزندوں کے بارے میں تمہیں سفارش کرتا ہے کہ لڑکے کا حصہ (میراث) دو لڑکیوں کی میراث کے برابر ہے") اور فرمایا: ("تمہارے اوپر واجب کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپهنچے اگر اس نے اپنے پیچهے کوئی اچهی چیز چهوڑ رکهی ہو تو اپنے والدین اور رشتہ داروں کے لئے شایستہ انداز میں وصیت کرے یہ حق ہے پرہیزگاروں پر.") اور تم نے گمان کیا کہ میرے لئے میرے والد سے کوئی بهی حصہ اور ارث نہیں ہے! اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے! پس کیا خدا نے ایک آیت تمہارے لئے مختص کردی اور اپنے نبی کو اس (آیت) سے نکال باہر کیا؟ یا پهر تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اگر رشتہ دار دو دینوں کے پیروکار ہوں تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے! یا یہ کہ میں اور میرے والد ایک دین کے پیروکار نہیں ہیں!! یا یہ کہ قرآن کے عموم اور خصوص کے بارے میں تم میرے والد سے زیادہ عالم اور جاننے والے ہو!!! کیا تم پهر بهی جاہلیت کی حکمرانی چاہتے ہو؟[21] ایک سوال: اگر اہل بیت اور اولاد نبی(ص)، نبی (ص) کے وارث نہیں ہوسکتے تو پهر کون آپ (ص) کا وارث ہوگا؟ اگر حدیث (لانورث) صحیح ہے تو اس میں تو کوئی بهی استثنا نظر نہیں آتی اور عائشہ کی روایت کے مطابق جناب سیدہ نے اپنا نمائندہ بهیج کر ابوبکر سے مدینہ اور فدک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خدا کی جانب سے لوٹائے جانے والے املاک میں سے اپنے ارث اور خیبر کےباقیماندہ خمس کا مطالبہ کیا. ابوبکر نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ "ہم انبیاء" کوئی ارث اپنے پیچهے نہیں چهوڑتے اور ہمارا ترکہ صدقہ ہوتا ہے اور آل محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلم کو ان اموال میں سے صرف اپنا حصہ مل سکتا ہے. اور یہ کہ ابوبکر نے جناب سیدہ کو کچھ بهی دینی سی انکارکیا. [22] تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابوبکر کے موقف میں کوئی استثنا نہیں تهی مگر ایک روایت ایسی بهی ملتی ہے جس میں ابوبکر استثنا کے قائل ہوئے ہیں اور اس روایت کا عنوان کچھ یوں ہے: «استثناء من نفي ارث النبي و توريثه تحقيقا للعدالة و رحمة باهل البيت الكرام» فقد تفضل ابوبكر لقد دفعت ألة رسول الله و دابته و حذاه الي علي و ما سوي ذالك ينطبق عليه الحديث.[23] ترجمہ: «ابوبکر کی جانب سی عدل و انصاف کو عملی جامه پهنانی اور اهل بیت کرام پر رحم و شفقت کی عنوان سی ارث نبی (ص) کی نفی سی اسثناء» پس ابوبکر نی فرمایا: میں نے رسول اللہ کی شمشیر، آپ (ص) کا گهوڑا اور جوتے علی (ع) کے سپرد کئے اور اس کے سوا دیگر تمام اشیاء پر حدیث کا انطباق ہوتا ہے!!! یہاں خلیفہ کے اس فضل و کرم سی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث واقعی رسول اللہ (ص) نے نہیں فرمائی تهی اور وہ رسول اللہ (ص) کی میراث میں سے اہم چیزیں بهی مستثنی کرسکتے تهے مگر اگر وه قیمتی چیزیں اہل بیت کے ہاتھ میں رہتیں تو ان کی زندگی میں کبهی غربت نہیں آسکتی تهی. چنانچه وه لے لی گئیں اور جوتے اور گهوڑا اور تلوار علی علیه السلام کے حوالے کردی گئیں. مگر وه اس بات سے غافل تهے کہ گهوڑا اور تلوار حاکمیت رسول کی منتقلی کی نشانی کے طور پر آپ (ص) کے حقیقی وارث کو ملنی چاہئے تهیں سو ایسا ہی ہؤا. بہر حال اس بات کا جواب ڈهونڈنا بہت ہی دشوار ہے کہ خلیفہ نے ایسا کیوں کیا اور فدک اور ساری دولت و جائیداد اہل بیت سے کیوں چهینی؟ کیوں که حدیث سے تو عدم ارث والی بات ثابت نه ہوسکی. اب یہ نہیں معلوم کہ اس کا نام حسد رکها جاسکتا ہے یا نہیں مگر یہ ظلم اور غصب کے زمرے سے خارج نہیں ہوسکتا. اور اگر یہ حدیث واقعی تهی اور تمام عقلی اور نقلی موانع کے باوجود فرض کیا جائے کہ رسول اکرم سے نقل ہوئی تهی تو پهر تو رسول اکرم کا ترکہ صدقہ تها اور جوتے، تلوار اور گهوڑا بهی صدقہ ہی ہوگا جبکہ علی علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام پر صدقہ حرام تها. چنانچہ نہ تو علی علیہ السلام صدقہ لینے پر راضی ہوسکتے تهے اور نہ ہی خلیفہ صدقے کی پیشکش کرسکتے تهے اور پهر وہ جو علی اور فاطمہ علیہماالسلام کا حق لیکر صدقے میں تبدیل کررہے تهے اور اس کے لئے اس قسم کی حدیث کا سہار
6 مئی 2011 - 19:30
News ID: 240296
اشارہ : یہ ایک حدیث کی جرح ہے جو مستندات پر مبنی ہے فیصلہ قارئین کو کرنا ہے کہ حق کہاں ہے اور باطل کہاں؟ ملاحظہ فرمائیں: